Click Here To Read In Details
Ads text
google.com, pub-2879905008558087, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Saturday, 8 February 2025
Saturday, 18 January 2025
Wednesday, 23 October 2024
میرے کچھ اشعار By Ruby Akram
میری انا، میراغرور، ایک کانچ کا برتن
توڑنے والے تیری شیشہ گری کمال نکلی
٭٭٭٭٭٭٭
میرے جزبات کی صداقت کا اسے ہوش کہاں
فرط جزبات کی قید میں بے حس چھپا بیٹھا ہے
٭٭٭٭٭٭٭
ہوش میں آ، صبر تو کر، اور راہ تک
زندگی مشکل ہی سہی، نا ممکن تو نہیں
Moum Dil Pathar Ka...!!! By Ruby Akram
Moum dil ka pathar...!!!
Koi aur nahi. Apne hi diloun pe bijli giraate hain. Aur jawaban ya toh hamara dil jal jata hai ya phir pathar ka ho jata hai. Dil jal jaye toh dhuaan bhi uthta hai. Uski jalan sabko nazar bhi aati hai. Kabhi kabar aisa dil doosroun ko bhi sath jala deta hai. Magar agar kisi ka moum dil pathar ka ho jaye. Toh na dhuaan uthta hai. Na chingari urti hai. Na shor hota hai k dil jal gaya. Bas la talluqi hoti hai. Khamoshi hoti hai. Aur phir ye pathar ya toh kisi pe gir jata hai. Ya manoun khaak orh kar khamoshi se logon ki nazar se ojhal ho jata hai tab.. jabb. Moum dil pathar ka ho jata hai.
Koi aur nahi. Apne hi diloun pe bijli giraate hain. Aur jawaban ya toh hamara dil jal jata hai ya phir pathar ka ho jata hai. Dil jal jaye toh dhuaan bhi uthta hai. Uski jalan sabko nazar bhi aati hai. Kabhi kabar aisa dil doosroun ko bhi sath jala deta hai. Magar agar kisi ka moum dil pathar ka ho jaye. Toh na dhuaan uthta hai. Na chingari urti hai. Na shor hota hai k dil jal gaya. Bas la talluqi hoti hai. Khamoshi hoti hai. Aur phir ye pathar ya toh kisi pe gir jata hai. Ya manoun khaak orh kar khamoshi se logon ki nazar se ojhal ho jata hai tab.. jabb. Moum dil pathar ka ho jata hai.
میرے اقوال- Ruby Akram Ke Aqwaal
السلام علیکم
مجھے معلوم ہے۔
میں کچھ نہیں
مگر کچھ کہنا چاہتی ہوں
اس مقصد کے لیئے میرے اقوال حاضر ہیں
زندگی جینے کیلیئے زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ اور زندگی گزارنے کیلیئے زندگی جینا پڑتی ہے۔
مجھے معلوم ہے۔
میں کچھ نہیں
مگر کچھ کہنا چاہتی ہوں
اس مقصد کے لیئے میرے اقوال حاضر ہیں
زندگی جینے کیلیئے زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ اور زندگی گزارنے کیلیئے زندگی جینا پڑتی ہے۔
-
Novel-Part-8 By Ruby Akram
السلام علیکم
گزشتہ حصوں میں آپ نے شہیر اور اسکے بیٹے شہرم کے درمیان فاصلہ اور ناراضگی کو دیکھا، اور اس ناراضگی کی وجہ سے شہیر کے والدین یعنی شہرم کی پرورش کرنے والے اسکے دادا دادی کو بھی پریشانی میں مبتلا دیکھا. آپ نے پڑھا کہ شہیر اپنے آپ میں شرمندہ ہے، مگر اپنے بیٹے شہرام کو راضی نہیں کر پا رہا ہے ، اور اپنے بیٹے سے یہ درخواست کر رہا ہے کہ وہ اپنے باپ کی بات سن لے ، مگر شہرم بے حسی کا مظاہرہ کر رہا ہے .آئیے اب آگے پڑھتے ہیں .
کچھ سال پہلے
اف ..................یار یہ لائٹ تو آف کر دو .
شہیر یکدم چونک کر بستر پر اٹھ بیٹھا .شہیر کا دل بیٹھ سا گیا ، کیوں کہ آج پہلی صبح تھی شہیر کی نیلم کے بغیر . اور اٹھنے سے لے کر ناشتہ کرنے تک کے خیال نے شہیر کو مزید بوجھل کر دیا . رات پریشانی میں ، اور تھکن میں شہیر کب نیند کی آغوش میں چلا گیا ، اسے خبر ہی نہ ہوئی اور صبح آنکھ کھلی تو لائٹ آف نا ہونے سے اسے خیال آیا کہ لائٹ آف نا ہونے کی وجہ نیلم کا گھر پر نا ہونا ہے، اور ابھی تو اسے آفس کی تیاری کے سارے مراحل سے خود ہی گزرنا ہے. بستر چھوڑنے کو جی بھی نہیں چاہ رہا تھا ، اور بستر چھوڑنا ضروری بھی تھا . آفس کو دیر ہو رہی تھی . بڑی جھنجھلاہٹ سے شہیر نے پیروں میں لپٹی بستر کی سمٹی ہوئی بیڈ شیٹ کو اپنے پیروں سے جدا کیا . اور اوندھے منہ گرتے گرتے بچا . کیا ہے یار .یہ چادر بھی .
آج شہیر نے ناشتہ نہیں کیا. آفس کے کپڑے استری کرتے کرتے اسے اپنے لئے ناشتہ پکانے کا وقت نہیں ملا .اور تیاری مکمل ہونے تک آفس کی وین آنے کا ٹائم ہو چکا تھا . الجھے اور مایوس انداز میں شہیر نے وین میں باقی آفیسرز کو سلام کیا . اور نظریں نیچے کیے ایسے بیٹھ گیا ، جیسے سب سے نظریں چرا رہا ہو . میں نظریں کیوں چرا رہا ہوں، میں نے کیا ہی کیا ہے، اور ویسے بھی میں ان سب کو جواب دہ نہیں ہوں. اور یہ لوگ ہوتے کون ہیں مجھ سے سوال کرنے والے. پر پھر میں ان کے سوالوں سے ڈر کیوں رہا ہوں.
آفس کا آج کا دن سکون سے گزر گیا. کسی نے کوئی سوال نہیں کیا . آفس ٹائمنگ کے بعد فزراء نے شہیر کے سیل فون پر کال کی .آج کا کیا پروگرم ہے ؟
یار آج میں سیدھے گھر جاونگا ،
پر شہیر آج تو ہم نے.
فزراء نے بات مکمل بھی نہ کی کی تھی کہ شہیر نے کال ڈراپ کر دی .
یہ کیا بکواس ہے . فذرا نے اپنا سیل فون اپنے بیگ میں ایسے پھینکا جیسے کوئی بیکار چیز زمین پر اٹھا پھینکی ہو .
----------------------------------------
زیب بیٹا کھانا لگاؤ .
جی بیگم صاحبہ .
اچھا سنو زیب ، ابھی رک جاؤ کیا پتا شہیر کھانا کھا کر آئے .
پر آپ نے تو کہا تھا کہ صاحب آج یہاں کھانا کھایئں گے.
تمہیں معلوم تو ہے زیب ، شہیر کا مزاج .
وہ ہی چیختی ، چلاتی ، اور سب کا دھیان اپنی طرف کرتی دروازے کی گھنٹی بجی .
زیب دروازہ کھولو . یہ شہیر ہوگا . بچپن سے آج تک کبھی صبر سے کام نہیں لیا شہیر نے .
زیب کھانا لگا دو ، بہت بھوک لگی ہے، صبح سے بلکہ صبح سے کیا رات سے کچھ نہیں کھایا .
زیب کھانا لگاؤ ، اور سنو آج میں بھی شہیر کے ساتھ کھانا کھاؤں گی . بڑے صاحب جب آیئں تو انکو انکے کمرے میں ہی کھانا دے دینا .
جی بیگم صاحب . زیب یہ کہ کر کھانا لگانے میں مصروف ہو گئی .
زہرہ بیگم یعنی شہیر کی والدہ نے کھانے کی میز پر موجود شہیر کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا .
شہیر نے اپنی ماں کا ہاتھ جھٹک دیا .
زہرہ بیگم نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے پکڑ کر ایسا سمبھالا جیسے کوئی کانچ کا برتن گرنے سے بچایا ہو، پر دل تو کانچ کی طرح چٹخا ہی تھا شہیر کی اس حرکت پر .
لیکن ہمیشہ کی طرح پھر سے خود کو پر سکون محسوس کرنے لگیں. کرتی بھی نہ کیسے . آج برسوں پرانی مراد جو بر آئی تھی .
زہرہ بیگم کی پچھلے سات سال سے یہ خواہش انگڑائی لے رہی تھی کے شہیر اور نیلم کی بگڑے .
کیوں بیٹا غصے میں کیوں ہو ؟ زہرہ بیگم نے ایسے سوال کیا جیسے سارے ماجرے سے انجان ہوں .
پوچھ تو آپ ایسے رہی ہیں جیسے آپ کو کچھ معلوم ہی نا ہو .
کیوں بیٹا کیا ہوا . اپنی ماں کو نہیں بتاؤ گے ؟
امی بس کریں آپ . میرے یہاں آنے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ آپ کو میں نے آپ کے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہونے دیا ہے، بلکہ ...... اتنا کہ کر شہیر خاموش ہو گیا . اور جلدی جلدی اپنے حلق سے کھانا اتارنے لگا .
آرام سے بیٹا . زہرہ بیگم بولیں.
شہیر نے اس بات پر ذرا سا بھی کوئی احساس ظاہر نا کیا .
اور کھانا ختم کرنے کے بعد سیدھا اس کمرے میں چلا گیا جہاں شادی سے پہلے شہیر رہا کرتا تھا .
دروازہ کھولتے ساتھ ہی شہیر کو ایک مانوس سے مہک اپنے کمرے میں محسوس ہوئی.
یہ مہک شہیر کے کمرے میں آنے سے پہلے ہمیشہ سے کمرے کا ماحول خوشگوار بنانے کے لئے ائیر فریشنرسے بکھیری جاتی تھی. کیوں کے شہیر کو کمرے سے آتی مختلف اشیاء جن میں فرنیچر ، کارپٹ کی مہک کچھ خاص پسند نا تھی. یہ اس بات کا ثبوت تھا کے شہیر کی اس گھر میں آمد کو مستقل سمجھا جا رہا تھا. مگر شہیر کسی اور نیت سے آج اس گھر میں داخل ہوا تھا.
شہیر نے اپنی الماری کھولی ، چابی وہیں مل گئی جہاں ہمیشہ ہوا کرتی تھی. یعنی الماری کے ساتھ رکھی میز کی دراز میں . یہ بھی اس بات کا ثبوت تھا کہ اس گھر کے باسیوں کو آج شہیر کی آمد کی خبر تھی. ورنہ اتنے سالوں تک اس دراز میں چابی کا پڑا رہنا بے معنی اور ان سیکیور تھا . شہیر کی آمد کی وجہ سے اسکی ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی. شہیر نے وقت ضایع کیے بغیر اپنی الماری کی تلاشی لینی شروع کر دی. اور کچھ ضروری کاغذات اور پرانی تصاویر نکالی اور اپنے بیگ میں رکھ لیں.
اب شہیر کو بس اپنے والد کا انتظار تھا. اور اس انتظار میں شہیر کو مزید تین گھنٹے اس گھر میں گزارنے تھے. شہیر کے لئے یہ تین گھنٹے گزارنا ایک اور مشکل کام تھا. مگر یہ شہیر کی مجبوری تھی. جو اسے اس انتظار پر مجبور کر رہی تھی.
Novel-Part-7 By Ruby Akram
- Pichle 6 parts main aap ne shehram aur uske baap ke ikhtilaafat daikhe, aur sania aur uski maan neelam ka aik doosre par aitbar, magar neelam ka sania ke hawaale se pareshan hona daikha, ab woh waqt aa gaya hai ke, shehram apne baap ke hawale se badgumaani ka jawab haasil kar sake, aur sania apni maan ki pareshani ka jawab haasil kar sake..shehram ke hawaale se pichle us hisse ka akhri paragraph, jis ko dobara parh kar aap apne zehen main kahani ko repeat kar sakainge...shukria
- ایک لمحے کے لئے شہرم اور شہیر نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا ایک دوسرے کے چہرے کے خد و خال کا جائزہ لیا شہیر کو اپنے بیٹے میں اسکی ماں کی جھلک نظر آئی . شہرم کی آنکھیں ، پیشانی اور بال بلکل اسکی ماں کے جیسے تھے ، اور ہونٹ اور تھوڑی اپنے باپ یعنی شہیر کے جیسے تھے، شہیر ٹک دیکھتا رہا شہرم کے چہرے پر ، اور اپنے دل میں اپنے بیٹے کے لئے امڈتے محبت کے جذبات اس پر لٹانے کے لئے اسکی طرف بڑھا ، مگر شہرم نے خد کو سمبھالتے ہوۓ بستر سے قدم نیچےبڑھادیئے . اور اپنے اور اپنے باپ کے بیچ بستر کا فاصلہ بنا لیا .شہیر نے اس رویے پر خود کو شہرم سے بہت دور پایا . اور اپنی بے اختیار محبت کو ضبط کر لیا . مگر دل میں بے رخی کے احساس کو اپنے رویوں کا جواب سمجھ کر شہرم سے مخاطب ہوا .
کیسے ہو ، میں جانتا ہوں، تم مجھ سے بہت ناراض ہو، اتنے ناراض کے پتا نہیں یہ ناراضگی کبھی ختم بھی ہوگی یا نہیں. مگر میں اب تمہیں اپنی آنکھوں سے دور نہیں رکھ سکتا.
کیوں کیا اب کوئی اور راستہ نہیں رہا آپ کے پاس ہم سے بغاوت کا ؟ شہرم نے اپنے منہ ہی منہ میں جملہ بولا .
کیا کہا شہیر نے سوال پوچھا.شہرم نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا .
تم مجھے معاف کر دو میری جان . میں صرف تمہارا نہیں ، بلکہ ہر اس انسان کا گنہگار ہوں کہ جو میری زندگی میں شامل رہا، میں کسی کو اسکا حق نہیں دے سکا.
شہرم کے دل میں اس جملے نے بہت سے سوال پیدا کر دیئے . اب وہ اپنے باپ کی چاہت کے لئے نہیں بلکہ اپنے سوالوں کے جوابات کے لئے شہیر کی تمام بات سننا چاہتا تھا. شہرم اٹھ کر کمرے سے جانے لگا.
رکو بیٹا . کیا تم اپنے باپ کو اسکے بیٹے کی عدالت میں کچھ کہنے کی گنجائش بھی نہیں دو گے . کیا میں یونہی ساری عمر بے مراد پھرتا رہونگا ؟
اتنی جلدی کیا ہے آپ کو ؟ مجھے نہیں لگتا میں آپ کو ساری زندگی معاف کر پاؤں گا . مجھے آپ سے کسی قسم کی محبت کا تبادلہ نہیں کرنا، نا ہی مجھے آپ کی یہاں موجودگی میں کوئی دلچسپی ہے، ہاں اگر کوئی دلچسپی ہے مجھے ،تو بس اتنی کہ میں بھی اپنے کچھ سوالات کا جواب چاہتا ہوں. کچھ ایسی باتیں جاننا چاہتا ہوں کہ جن کی وجہ سے بچپن سے آج تک میرے دل میں سکون نہیں .
میں جانتا ہوں میری جان، تم نے کتنی تکلیف میں گزارا کیا ہے ، میرے بیٹے میں تیرے ایک ایک دکھ سے واقف ہوں.
شہرم نے اپنے باپ کی بات سن کر گردن جھٹکتے ہوئے کہا، میں نا جانے یہ بات آپ کو کیوں بتا رہا ہوں، اس انسان کو کیوں بتا رہا ہوں یہ باتیں کہ جس کو آج تک یہ خبر نہیں تھی کے اس کا بیٹا زندہ ہے یا مر گیا .
دروازے پر ہلکی جنبش ہوئی ، شہرم نے بڑھ کر دروازہ پورا کھول دیا . آیئے دادی جان . آپ کا بیٹا آپ کا انتظار کر رہا ہے.
زہرا بیگم ہاتھ میں چائے کی پیالی لئے کمرے میں بڑھیں .
آیئے امی . بیٹھیئے ..شہیر نے بات کو یہیں روکتے ہوۓ چائے کی پیالی اپنے ہاتھ میں لے کر خاموشی اختیار کر لی.
تم ناشتے کے لئے تیار ہو شہرم ؟ دادی نے مخاطب ہوتے ہوۓ کہا .
جی دادی ، آپ ناشتہ لگوایئے ، میں تیار ہو کر آتا ہوں، یونیورسٹی جانا ہے مجھے دیر ہو رہی ہے
.
میں تم سے شرمندہ ہوں شہیر ..زہرا بیگم اپنے بیٹے شہیر سے مخاطب ہوئیں .
میں نے تمہیں ایسے درد دیئے ہیں کہ جن کی کوئی دوا نہیں ہے . میرے پاس تو الفاظ بھی نہیں ہیں، کہ جن سے میں اپنے کیے پر شرمندگی کا اظہار کر سکوں، اپنی
غلطی کو سدھار سکون ، تمہیں تمھاری زندگی کا سکھ چین واپس کر سکون . میں بہت شرمندہ ہوں
امی ، میں بہت مشکل سے خود کو سمجھا کر آیا ہوں. اب یہ باتیں دوبارہ یاد کر کے پھر سے تکلیف میں مبتلاء نہیں ہونا چاہتا . بس ختم کرتے ہیں زندگی کی وہ تلخیاں جو ہمیں شرمندہ کرتی ہیں، جو ہمیں رشتوں سے دور کرتی ہیں، وہ شرمندگی بھی اب ہمارے کس کام کی ، جب وقت ہاتھ سے جا چکا ، تو اب شرمندہ ہونے میں کیا رکھا ہے. اب تو وقت ہے رشتوں کو سمیٹنے کا . اپنوں کو قریب لانے کا .
مجھے بتاؤ میرے لال ، میں تمہارے لئے کیا کروں .
کچھ نہیں امی . آپ بس میرے لئے دعا کریں . والدین کی دعا اولاد کی تقدیر بدل سکتی ہے . مجھے اب آپ لوگوں کا ساتھ اور دعا چاہئے .
Novel-Part-6 By Ruby Akram
pichle 5 parts main aap ne shehram ko apne baap shaheer se badgumaani ko daikha , aur shaheer ke waldain ka is par pareshan hona daikha, neelm aur uski beti sania ki zindagiyoun main akele zindagi basar karne ki mushkilaat aur neelam ki sania ke bare main tashweesh ko parha..aaiye ab kahaani ko aage barhaate hain..
نیلم بغیر کچھ کھائے پیئے بستر پر بے سدھ پڑی تھی .سوچوں کے لگاتار بہاؤ نے نیلم کی آنکھوں سے آنسو رواں کر دیئے تھے . نیلم کو لگ رہا تھا جیسے ثانیہ کی پرورش اسنے مناسب انداز میں نہیں کی. بلکہ اسکو بے جا اعتماد دے کر خود پسند اور من مانی فیصلوں کا عادی بنا دیا ہے، نیلم کو ثانیہ کے بدلتے طور طریقے ، سجنے سنورنے کی خواہشات میں اضافہ ، اور شام کو دیر سے گھر لوٹنے کی فکر نے لگاتار پریشان کر رکھا ہے . یہ ہی سوچتے سمجھتے کب شام کے پانچ بج گئے نیلم کو پتا ہی نہیں چلا ، ابھی نیلم کے جسم میں تھکاوٹ کے آثار موجود تھے ، اور آنکھوں سے بہتے پانی نے نیلم کی گہری آنکھوں کو سرخ کر رکھا تھا، اتنی دیر میں دروازے کی بیل نے نیلم کو بستر سے اٹھنے پر مجبور کر دیا .
اوہ ، تم ہو ثانیہ . آ جاؤ بیٹا ، دیکھو دروازہ آرام سے لاک کر دینا .
سانیا سیدھے اپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گئی ، اور فریش ہو کر نیا لباس زیب تن کر کے دوبارہ کہیں جانے کی تیاری میں نظر آنے لگی ، ثانیہ نے جلدی جلدی اپنے اور نیلم کے لئے چائے بنائی ، اور سیدھے نیلم کے کمرے میں چلی گئی ،
اٹھیں ماما . کیا بات ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نہ آپ کی ؟
کچھ نہیں بیٹا بس تھکاوٹ ہے .
مما آپ کچھ دن کے لیو کیوں نہیں لے لیتیں ، آرام بھی کر لینگی اور یہ جو گرمیوں کی شدت ہے یہ بھی کچھ کم ہو جائے گی .
ہاں بیٹا میں نے آج ہی آفس سے چند روز کے لئے لیو اپروو کروائی ہے ، لیکن میں چاہتی ہوں ان چھٹیوں میں مجھے تمہارا ساتھ بھی ملے .
پر مما آپ نے مجھے پہلے بتانا تھا ، میں نے تو اکیڈمی کی ایوننگ جاب جوائن کر لی ہے ، ابھی مجھے ایک ہفتہ ہی ہوا ہے جاتے ہوئے .
ثانیہ بیٹا ، کیا تم اب اتنی خود مختار ہو گئی ہو کہ اپنے کسی فیصلے میں ، یا زندگی کے کسی نئے قدم پر مجھے بھی ساتھ لے کر چلو ؟
نہیں مما آپ یہ کیسی بات کر رہی ہیں، آپ کہئے تو میں آج ہی یہ جاب چھوڑ دوں ؟
نہیں بیٹا میرے کہنے کا یہ مطلب تو نہیں تھا. مگر والدین کے اتنا حق تو ہوتا ہے کے اپنی اولاد کے ہر اٹھنے والے قدم سے باخبر رہیں ،
پر مما آپ ہی نے تو مجھے اجازت دے رکھی ہے اپنے فیصلے خود کرنے کی.
ہاں بیٹا فیصلے خود کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، پر یہ تو نہیں کہا کہ اپنے فیصلوں میں تم مجھے شامل نہ کرو ، یا تم کیا کرنے جا رہی ہو اس سے مجھے بے خبر رکھو ؟
کیا بات ہے مما . آپ کچھ پریشان نظر آ رہی ہیں، آپ نے آج سے پہلے تو ایسی باتیں کبھی نہیں کیں .میری طرف دیکھیئے ، یہ آپ کی گہری گہری آنکھیں آج اتنی سوجی ہوئی کیوں ہیں مما ؟
نا جانے مما آپ نے اپنے دل میں کیا کیا دکھ پال رکھا ہے، اور مجھے آج تک اپنے دل کے حال سے بے خبر رکھا ہے، میرے کسی سوال کا جواب بھی آج تک آپ نے نہیں دیا. اب میں اتنی بھی بچی نہیں رہی ہوں کہ آپ کی زندگی کے بارے میں کچھ جان نہ سکوں ، آپ آج تک کن الجھنوں کا شکار ہیں ،ان سوالات کے جوابات کے قابل بھی نہیں سمجھا ہے آپ نے آج تک مجھے . مما کیا میری ساری زندگی یوں ہی گزر جائے گی ؟آپ کو اکیلے ، سسکتے اور پریشان حال دیکھتے دیکھتے ؟کیا مجھے میرے کسی سوال کا جواب نہیں ملے گا ؟
ملے گا جواب ، میری جان ضرور جواب ملے گا. بلکہ اگر میں یہ کہوں کے میں نے آفس سے لیو لی ہی اسلئے ہے کے اب وہ وقت آ گیا ہے کہ میں تمہیں تمھارے سارے سوالوں کا جواب دے سکون .تو کیا تمہارے پاس میرے جوابات سننے کا وقت ہے ؟
بولو بیٹا ، کیا تمہارے پاس تمھاری مما کے لئے ذرا بھی وقت ہے ؟
Novel-Part-5 By Ruby Akram
pichle parts main aap ne daikha ke aik bete ka us ke baap ke sath ikhtilaaf daikha, aur us ikhtilaaf par dada dadi ki pareshani daikhi, 3rd part main aap ki mulaqat is novel ke new characters sania and uski mother se hui
4rth part main sania ki mother ke liye akele is dunia main zindagi basar karne main kia problems hain wo daikhi abhi ye hissa jari hai..aaiye tab tak shaheer ka us ke bete shehram se milne ki beqaraari ko daikhte hain..
4rth part main sania ki mother ke liye akele is dunia main zindagi basar karne main kia problems hain wo daikhi abhi ye hissa jari hai..aaiye tab tak shaheer ka us ke bete shehram se milne ki beqaraari ko daikhte hain..
امی رات شہرم گھر نہیں آیا. کیا اسکا روز کا یہ ہی روٹین ہے؟
نہیں بیٹا. ایسا آج تک کبھی نہیں ہوا کے شہرم گھر نا آیا ہو. وہ سو رہا ہوگا اپنے کمرے میں.
پر امی میں صبح فجر کے بعد اسکے کمرے میں گیا تھا. وہ نہیں تھا اپنے کمرے میں. بلکہ بستر کی چادر پر ایک سلوٹ بھی نہیں تھی جو اسکی موجودگی کا ثبوت دے. میں نے تو رات بڑی بے تابی اور صبح کے انتظار میں گزاری ہے.
وہ سٹڈی روم میں سو گیا ہوگا. یہ اسکا معمول ہے. جب پیپرز قریب ہوتے ہیں ، وہ پڑھتے پڑھتے وہیں سو جاتا ہے.. بڑی پیاری طبیعت پائی ہے تمھارے بیٹے نے.
امی ایک کپ چائے اور ملے گی ؟
کیوں نہیں میری جان. ابھی لاتی ہوں.
امی آپ چائے سٹڈی روم میں لے آیئے گا. میں وہاں جا رہا ہوں. میری آنکھوں کا انتظار ، مجھے کہیں چین نہیں لینے دے رہا. بڑی مشکل سے میں نے اپنے دل کی بغاوت کو روکا ہے، بڑی مشکل سے میں نے خود کو سمجھایا ہے کہ میرا جو کوئی بھی ہے..وہ یہیں ہے.میرے والدین اور میرا بیٹا. جن کو میں نے برسوں خود سے جدا رکھا .
اچھا بیٹا تم چلو میں لاتی ہوں.
شہیر نے دروازے پر ہلکی دستک دی .
کون ہے آ جایئے . شہرم نے دستک کا جواب دیا . گہری نیند میں شہرم اس بات سے بلکل غافل تھا کہ دروازے پر کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا باپ ہے . اور اپنے بستر میں آنکھوں پر اپنی کلائی رکھے نیم دراز رہا .
شہرم نے اپنے بیٹے کو آواز دینے سے پہلے بستر پر نیم دراز لیٹے دیکھ کر اس کو اپنی نظروں میں سمونے کی کوشش کی. اور اپنی نگاہ کو شہرم کے سر سے پاؤں تک چہرے پر ہلکی اور محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ شہرم کی طرف مرکوز کر لیا . اور محبت سے بے اختیار ہو کر شہیر نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں شہرم کے بالوں پر پھیرنا شروع کر دی .
شہرم نے اپنی آنکھوں پر سے اپنی کلائی ہٹاتے ہوئے آنکھیں کھول کر دیکھا .
اوہ ........ ان الفاظ کے منہ سے نکلتے ساتھ ہی شہرم نے ایک دم خاموشی اور رویے میں بے
رخی اختیار کر لی . جس کو دیکھ کر شہیر اس بات کا اندازہ اچھی طرح لگا سکتا تھا کہ شہرم اس سے کتنا بد زن ہے .
ایک لمحے کے لئے شہرم اور شہیر نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا ایک دوسرے کے چہرے کے خد و خال کا جائزہ لیا شہیر کو اپنے بیٹے میں اسکی ماں کی جھلک نظر آئی . شہرم کی آنکھیں ، پیشانی اور بال بلکل اسکی ماں کے جیسے تھے ، اور ہونٹ اور تھوڑی اپنے باپ یعنی شہیر کے جیسے تھے، شہیر ٹک دیکھتا رہا شہرم کے چہرے پر ، اور اپنے دل میں اپنے بیٹے کے لئے امڈتے محبت کے جذبات اس پر لٹانے کے لئے اسکی طرف بڑھا ، مگر شہرم نے خد کو سمبھالتے ہوۓ بستر سے قدم نیچےبڑھا دیئے . اور اپنے اور اپنے باپ کے بیچ بستر کا فاصلہ بنا لیا .
شہیر نے اس رویے پر خود کو شہرم سے بہت دور پایا . اور اپنی بے اختیار محبت کو ضبط کر لیا . مگر دل میں بے رخی کے احساس کو اپنے رویوں کا جواب سمجھ کر شہرم سے مخاطب ہوا .
کیسے ہو ، میں جانتا ہوں، تم مجھ سے بہت ناراض ہو، اتنے ناراض کے پتا نہیں یہ ناراضگی کبھی ختم بھی ہوگی یا نہیں. مگر میں اب تمہیں اپنی آنکھوں سے دور نہیں رکھ سکتا.
کیوں کیا اب کوئی اور راستہ نہیں رہا آپ کے پاس ہم سے بغاوت کا ؟ شہرم نے اپنے منہ ہی منہ میں جملہ بولا .
کیا کہا شہیر نے سوال پوچھا.
شہرم نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا .
Novel-Part-4 By Ruby Akram
is se pehle waale 3 parts main aap ne aik bete ka us ke baap ke sath ikhtilaaf daikha, aur us ikhtilaaf par dada dadi ki pareshani daikhi, 3rd part main aap ki mulaqat is novel ke new characters sania and uski mother se hui...ab aage...
ماما ، آپ اپنی صحت کا بلکل بھی خیال نہیں رکھتی ہیں، جبکہ آپ جانتی بھی ہیں کہ میرے پاس آپ کی دیکھ بھال کے لئے بہت وقت نہیں ہوتا. آپ نے مجھے پڑھانا لکھانا بھی اپنا مقصد بنا رکھا ہے، اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے آپ جان کی بازی لگانے کو بھی تیار ہیں، میں ایسے کیسے آپ کو اس حال میں دیکھ کر اپنی تعلیم پر توجوہ دے سکتی ہوں؟
نہیں میری جان ، یہ بیماریاں تو انسان کی زندگی کا لازم و ملزوم حصہ ہیں ، ان سے ہم خود کو کیسے جدا کر سکتے ہیں. ہاں مگر. یہ زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے ، گاڑی کے سارے پہیے سلامت ہونا ضروری ہیں. میں یہ گاڑی چلا تو رہی ہوں، مگر اگر دوسرا پہیہ بھی اس گاڑی کو میرے ساتھ چلا رہا ہوتا ، تو شاید آج مجھ پر زمیداریوں کو اتنا بوجھ نہ ہوتا .
لیکن ایک میں ہی نہیں، اس معاشرے میں لا تعداد خواتین ایسی ہیں، جو زندگی کی گاڑی اکیلے چلا رہی ہیں. چلانا پڑتی ہے گاڑی . ورنہ راستے میں رک جاؤ تو نا جانے کتنے لوگ جو ہم سے تیز چل رہے ہوتے ہیں، ہمیں کچل کر ہم سے آگے نکل جاتے ہیں،
ماما ، آج آپ مجھے بتاتی کیوں نہیں کہ . جس دوسرے پہیے کی آپ بات کر رہی ہیں ، وہ پہیہ کون ہے، وہ کہاں ہے. آپ مجھے اس سے بے خبر کیوں رکھے ہوئے ہیں ؟
بس ثانیہ ہماری زندگی میں کبھی ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں ، کہ ہم اپنے ماضی کو یاد نہ ہی کریں تو ٹھیک ہوتا ہے.
باتیں کرتے کرتے ثانیہ کا ذہن اسکے موبائل فون کی گھنٹی نے اس سوال سے ہٹا دیا . اور ثانیہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی.
--------------------------------------------------------------
آپ بڑی سمجھدار اور قابل تعریف خاتون ہیں نیلم . جس طرح سے آپ نے اپنی بیٹی کی پرورش کی ہے، اور جس طرح سے آپ نے اپنی زندگی کو آپ کی کم عمری سے لے کر اب تک گزارا ہے. یہ بڑے حوصلے کی بات ہے . میں جانتا ہوں ہمارا معاشرہ کیسا ہے. ایک ایسی عورت کہ جسکو اسکے شوہر نے اس دنیا میں نظروں کی سازشیں بنتے مردوں، قاتلانہ فطرت کے مالک جابروں اور اکیلے پن کی دلدل کے حوالے کر دیا ہو . ایسی خاتون کا اس دنیا میں سروائیو کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے. نا صرف سروائیو کرنا بلکہ بغیر کسی سہارے کے زندگی کے سفر کو تنہا گزارنا یہ ایک کامیاب انسان کے بس کی ہی بات ہوتی ہے. میں تو اس انسان کی بد قسمتی پر حیران ہوں کہ اس نے آپ جیسی پر وقار خاتون کو کیسے تنہا چھوڑ دیا.
بس سفیر صاحب ، ہر انسان کو آسائشیں جھولی میں پڑی ہوئی نہیں ملتی ہیں. ہر انسان کی تقدیر میں خوش قسمتی ہی نہیں ہوتی . اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہمسفر بھی ایسا ملے جو ساری زندگی ساتھ دے. آپ کا اور میرا ساتھ اس آفس میں برسوں پرانا ہے. آپ نے ہمیشہ میرا بھائیوں کی طرح خیال رکھا ہے. آپ میرے محسنوں کی طرح ہیں. آپ کاینڈلی ایڈمن سے میری ایک ماہ کی لیو اپروو کروا دیں . میں بہت شدت سے محسوس کر رہی ہوں ثانیہ کے بدلتے رویے کو.
الله خیر کرے، کیا ہوا ہماری بیٹی کو. کوئی خاص بات ہے نیلم ؟ سفیر صاحب نے تشویش سے سوال کر ڈالا نیلم سے.
نہیں سفیر صاحب . کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے. بس تھوڑی چڑچڑی ہو گئی ہے ثانیہ، شاید میں اسے صحیح سے وقت نہیں دے پا رہی ہوں. میں کچھ روز اسکے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہوں. آخر میرے علاوہ اسکا اس دنیا میں ہے ہی کون. نیلم نے اپنی ذہنی کوفت کو سفیر صاحب سے چھپاتے ہوئے ثانیہ کے چڑچڑے ہونے کا بہانہ بنایا .
ٹھیک ہے نیلم بی . آپ بے فکر ہو کر اپنے آفس میں جایئے . میں آپ کی لیو آج ہی سبمٹ کروا دونگا.
او کے سفیر صاحب . آپ کا بہت بہت شکریہ.
کتنا مشکل ہوتا ہے. ایک باپ کے بغیر اسکی اولاد کی پرورش کرنا، کتنا مشکل ہوتا ہے، ایک خاندان کے بغیر اپنی اولاد کے لئے زندگی کے فیصلے کرنا، کتنا عجیب ہوتا ہے، کسی اپنے کے بغیر بڑے بڑے مسائل کو خود حل کرنا.یا الله کسی انسان کی خاص تقدیر ہی کیوں ہوتی ہے. میرا ہمسفر نہیں ہے میرے ساتھ، تو کوئی اپنا بھی تو نہیں ہے ، کہ جس سے میں دل کھول کر اپنے وسوسوں کا، اپنی سوچ کا، اپنے فیصلوں کا ذکر کر سکون. کہ جس سے میں ضرورت پڑنے پر مشورے مانگ سکون. میں ایک عورت ہوں. معاشرے کو صرف ایک عورت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں. کسی مرد کا ساتھ بھی ہم ماں بیٹی کی زندگی میں ہوتا. تو مرد کی نگاہ سے بھی ہم اس دنیا کے رنگ ڈھنگ پہچان سکتے . کہنے کو سفیر صاحب میرے بھائیوں جیسے ہیں، مگر پرایا مرد پرایا ہی ہوتا ہے. میں کبھی ان سے اپنی اور ثانیہ کی زندگی کے بارے میں دل کھول کر بات نہیں کر سکتی. میں نے اپنی بیٹی کو ایک ماں کا بھر پور پیار دیا ہے. مگر باپ کی شفقت سے میری بیٹی محروم ہی رہی ہے. میری بیٹی تو باپ بھائیوں جیسی پاک نظروں سے بھی واقف نہیں، تو انجان مردوں کی اس دنیا میں وہ نا پاک اور پاک نظروں میں کیسے فرق کر سکے گی. ابھی تک تو میں نے اسے اپنی پلکوں کے سائے میں پالا ہے، ایک پل اسے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا. مگر اب وہ بڑی ہو گئی ہے. اس کی اپنی زندگی بھی ہے، اپنی سوچ ، اپنی آزادی اور اپنی پرائیویسی ہے . میں کب تک اسکی زندگی میں مخل ہوتی رہونگی. جب اولاد جواں ہو جاتی ہے، وہ اپنے ماں باپ سے تھوڑا فاصلہ چاہتی ہے. کیا میں ثانیہ کو خود مختاری کا یہ فاصلہ دے پاونگی ؟
میں نے تو آج تک اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ صحیح نہیں کیا. تو میں ثانیہ کو صحیح غلط کی تمیز کیسے دے پاؤں گی. کم عمری میں ،میں نے جو بھی قدم اٹھائے. وہ مجھے نصیب سے کامیابی یا ناکامی کی طرف لے آئے. اس کے لئے میں اپنی زندگی کے لئے خود جواب دہ ہوں. پر اگر میں نے ثانیہ کے لئے کوئی غلط فیصلہ کیا تو اس کی زندگی کے لئے کون جواب دہ ہوگا ؟
کتنی شدید کمی محسوس ہو رہی ہے مجھے زندگی کے اس موڑ پر آ کر ایک ہم سفر کی . ان ہی خیالات میں الجھے ہوئے نیلم اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی. راستے بھر اسکے اریب قریب سے کون گزرا ، سڑک پر تیز رفتار ٹریفک کے کیا حالات تھے. کب آفس وین آفس سے گھر تک کی سڑکوں پر فراٹے بھرتے ہوئے نیلم کے گھر کے دروازے پر رک گئی نیلم کو اس کا احساس تک نا ہوا.
اتریں میڈم .
ڈرائیور کی آواز پر نیلم چونک گئی .
اوہ سوری .
نیلم وین سے اتر کر اپنے دروازے کی طرف بڑھی. ہمیشہ کی طرح آج بھی اسکا دروازہ لاک تھا. لاک ہوتا بھی کیوں نہیں. آخر نیلم اور ثانیہ کے سوا اس گھر میں رہتا ہی کون تھا. نیلم ہمیشہ گھر آ جاتی تھی کبھی گرمیوں کی چلچلاتی دوپہر میں، تو کبھی سردیوں کی تیز برستی بارش میں. مگر گرمی اور بارش کی شدت کو جھیلتے ہوئے نیلم کو ہمیشہ ہی اپنا دروازہ خود کھولنا پڑتا . ایسا مہینے میں اکا دکا بار ہی ہوتا تھا کے ثانیہ گھر پر موجود ہوتی تو دروازہ نیلم کو کھلا ملتا . مگر آج نیلم کو دروازہ کھولنا ایک زحمت معلوم ہو رہا تھا. کیوں کے دن بھر کی سوچ بچار اور آفس کے کام کی وجہ سے ذہنی تھکاوٹ نیلم کو نڈھال کئے ہوئے تھی. اور آج نیلم کے پختہ ارادے، سوچ اور پر تاثیر شخصیت ماند پڑتے دکھائی دے رہے تھے.
اوہ ہو. اب کھل بھی جا . نیلم نے بڑی بد مزاجی سے دروازے کے لاک کو کھولنے کے لئے جھنجھوڑا. پھر یہاں وہاں دیکھ کر اپنے رویے میں نرمی لے آئی .کہیں اس حرکت پر کسی کی نظر تو نہیں پر گئی. اس ہی شش و پنج میں دروازہ کھل گیا. نیلم سیدھے گھر کے اندر داخل ہوئی . اپنے بیگ کو صوفے پر پھینکا اور سیدھے بستر پر جا کر بے سدھ لیٹ گئی.
یا الله میری تو ہمت ہی جواب دیتی جا رہی ہے. مجھے اب ثانیہ کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کر لینا چاہئے . میری تو ہڈی ہڈی جواب دینے لگی ہے. آج مجھے اندازہ ہو رہا ہے، ایک مرد کی تھکاوٹ کیا ہوتی ہے. آج مجھے شدت سے اندازہ ہو رہا ہے کہ نوکری کسے کہتے ہیں، کیوں ایک مرد گھر آ کر اپنی بیوی کی ایک مسکراہٹ کا خواہاں ہوتا ہے. کیوں بیوی کی ذرا سی توجوہ مرد کو اپنی بیوی اپنے بچوں کے لئے اتنی تھکاوٹ کے بعد بھی ایسے ترو تازہ کر دیتی ہے ، جیسے صبح سویرے آنکھ کھولتے ساتھ ہی انسان سکون کی حالت میں ہوتا ہے.
یہ اندازہ تو مجھے پہلے بھی ہوتا رہا ہے. مگر اپنی ہڈ دھرمی اور ضد میں آج تک میں یہ ماننے کو تیار نہیں تھی کہ گھر پر بیٹھ کر ایک عورت جیسے زندگی گزار رہی ہوتی ہے،وہ کسی بھی ملکہ سے کم نہیں ہوتی ہے چاہے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ .. بے شک تھکاوٹ، کام سے چور چور ہو جاتی ہے عورت. مگر اسکی عزت نفس پامال نہیں ہوتی. اسے اپنے گھر کی چار دیواری کا پردہ ہمیشہ ڈھانپے رہتا ہے. پھر گھر کا کام ایسا نہیں کہ عورت کو ذہنی تھکاوٹ دے. بلکہ ایک عورت اپنے گھر کو کامیابی سے چلا کر تھکتی نہیں بلکہ اسکو ذہنی سکون ملتا ہے یہ دیکھ کر کہ اسکا شوہر ، اسکے بچے، اسکے ماں باپ ، سب اسکے کام سے محظوظ ہو رہے ہیں. اسے سارا سارا دن انتظار ہوتا ہے اپنے بچوں کا، اپنے شوہر کا یا اپنے باپ بھائیوں کے گھر واپس آنے کا. اسی انتظار میں ایک عورت چاہے ماں ہو، بیٹی ہو، بہن ہو، یا بیوی ہو، ساری دنیا کے جھمیلوں سے بے فکر ہو کر ان لوگوں کے لئے کھانے پینے کا، گھر کی صفائی کا اور خود کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی ہے. اس میں اسے جو مسرت حاصل ہوتی ہے ، اس خوشی کا کوئی خوشی مقابلہ نہیں کر سکتی . پر میں نے تو اپنا بہت کچھ کھو دیا. صرف اس ضد میں کہ میں بھی خود مختار ہونا چاہتی ہوں. ایسی خود مختار ہوئی کہ آج تک اس شہر کے کوچے کوچے میں جا کر اپنے کام کاج مجھے خود کرنے پڑتے ہیں، بیمار ہوں یا تھکی ہوئی ، جو کرنا ہے مجھے خود کرنا ہے. پر آج تک میں اپنی انا میں الجھی ہوئی اس حقیقت کو ماننے سے انکار کرتی ہوں کہ ایک عورت کا مرد کے بغیر گزارا آسان نہیں . بلکہ ٹھیک ٹھاک مشکل ہے. کہیں میری بیٹی بھی میرے جیسی سوچ کی مالک نہ ہو جائے . میں پھر بھی اسکی پرورش ایسے کر رہی ہوں کے وہ کسی کی محتاج نہ رہے. ایک عورت جب تک مرد کی محتاج رہتی ہے، اپنے گھر کی ملکہ بنی رہتی ہے. اور جب یہ تاج اپنے سر سے اتارتی ہے. تو ایک عام عورت بن جاتی ہے. میں نے خود ایک ملکہ کو کھو کر اپنے لئے عام عورت کا روپ چنا ہے . میں اپنے آج کی خود زمیدار ہوں.
ہائے . ابھی میرا گھر بار ہوتا. میرے اپنے میرے ساتھ ہوتے. تو شاید میرے لئے کوئی کھانا گرم کر لاتا. شاید کوئی میری تھکاوٹ کا علاج کرتا. کندھوں اور گردن کی تھکاوٹ سے چور نیلم نے کروٹ لے ہی لی . ورنہ اسے لگ رہا تھا کے وہیں ڈھیر رہے . میں نے تو خود اپنے لئے یہ زندگی منتخب کی ہے. ورنہ کم عمری میں تو ہر لڑکی کو اپنے آپ پر بڑا ماں ہوتا ہے.
آج نیلم کو یاد آ رہا تھا ، وہ وقت جب وہ اپنے سسرال کو چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے پاس چلی گئی تھی. بڑے پیارے ہوتے ہیں ماں باپ . بیٹی کے ناز نخرے اٹھانے والے. پر کبھی کبھی یہ ہی ماں باپ بھول جاتے ہیں. کہ اس بیٹی نے کسی دوسرے کے گھر کی زینت بننا ہے. کہ جہاں اسکی بگڑی عادتوں پر اسکے ناز نخرے نہیں اٹھائے جایئں گے. بلکہ یہ ہی عادتیں اسکی دشمن بن جایئں گی. میری عادتیں ہی میری دشمن تھیں. میری عادتوں نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا . کہیں میری بیٹی بھی میری جیسی عادتوں کی مالک تو نہیں ہو گئی. اسکی پرورش میں نے ہی کی ہے. اور اسکی اکیس سالہ زندگی میں مجھے آج پہلی بار احساس ہو رہا ہے کہ میری عادتیں اچھی نہیں تھیں. میں نے تو اس میں بھی اپنی ہی عادتیں منتقل کی ہے. کہیں میری بیٹی کا نصیب میرے جیسا نہ ہو. الله نہ کرے.
پر نہیں ، میری بربادی کی خالی میں زمیدار نہیں ہوں ، مجھ پر میری بیٹی پر تہمتیں لگائی گئی ہیں، اگر میں نے یوں اپنی زندگی کو سمیٹا نا ہوتا تو آج بھی میری بیٹی داغدار ہوتی ، بیگناہ بیٹی میری اور میں داغدار ہوتے .
آج نیلم کی آنکھوں میں اپنی زندگی ایک کہانی کی طرح چلنے لگی
Novel-Part-3 By Ruby Akram
pichle 2 parts main aap ne shehram aur uske baap ke darmyaan talluqaat ki waja se pareshani ko parha..aur shehram ke dada daadi ki is baare main tashweesh daikhi aaieye ab kahaani ke mazeed kirdaaroun ki taraf barhte hain....
ثانیہ نے اپنے چہرے کو آئینے میں تھوڑا اور غور سے دیکھا . پلکوں کو جھپکایا ، اپنے چہرے کے خد و خال پر نظر دوڑائی ، اور اپنے آپ میں شرما گئی .
اس کا مطلب ہے، لوگوں کا میرے چہرے پر پڑنا ، اس چہرے کا کمال ہے. پھر اپنی سوچ کو جھٹک دیا. یہ سوچ کر ، کہ اس نے خود کو آج کل کے ہونے والے تمام حالات سے محفوظ رکھنا ہے، نہ تو وہ خود کو آزاد خیال کر سکتی ہے، نہ ہی اس میں اتنی طاقت ہے کہ ، زمانے کا مقابلہ کر سکے. اور ہوش میں آنے سے پہلے سے ہی بدنام لڑکی اگر ان حالات کی طرف دھیان لگائے گی ، تو نہ جانے اب اسکے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا .
ثانیہ نے جلدی جلدی اپنا میک اوور ختم کیا .
سج دھج کر ثانیہ کا کوئی ثانی نہیں تھا.
ثانیہ……….. ثانیہ بیٹا تیار ہو تو جلدی آؤ ہمیں دیر ہو رہی ہے.
ثانیہ اور نیلم ایک چھوٹے سے مگر قدرے خوبصورت اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھیں، نیلم ایک سرکاری دفتر میں بی پی ایس 9 کی افسر تھی. زندگی دونوں ماں بیٹیوں نے صرف ایک دوسرے کے لئے ہی اور ایک دوسرے کے ساتھ ہی گزاری تھی. آج حسب معمول ثانیہ اور نیلم ایک آفیشل پارٹی میں جا رہی تھیں. نیلم نے اپنی بیٹی کی پرورش اس طرح کی تھی کے زمانے کے ہر ڈھب میں ڈھل جانا ثانیہ کے لئے بہت مشکل نہیں تھا. مگر خود کو بدلتے حالات کے ساتھ با عزت طریقے سے کیسے ڈھالنا ہے. یہ ثانیہ بخوبی جانتی تھی. نیلم جانتی تھی کہ اس کی اس زندگی کا آغاز جس ماحول میں ہوا تھا، وہاں اسکو اجنبی لوگوں میں خود کے لئے کیسے مقام بنانا ہے ، کہ اسکی بیٹی ثانیہ کے لئے وہ ابھی سے کوئی مستقبل تلاش کر سکے . ثانیہ کی شادی نہ بھی کر پائے وہ ان اجنبی ماحول کے لوگوں میں. پر کم از کم ثانیہ کو جاب ضرور مل جائے گی .
ماشااللہ ، نیلم یہ تمھاری بیٹی ثانیہ ہے نا. ؟
آج اس کو میں نے دو سال بعد دیکھا ہے، کافی نکھار آ گیا ہے اس کی شخصیت میں. کیا کرتی ہو ثانیہ بیٹی . مسز انور نے ثانیہ کی طرف بڑے پیار سے نظر ڈالتے ہوئے سوال کیا .
آنٹی میں ماسٹرز کر رہی ہوں .
اچھا بیٹی . ٹھیک ہے. مجھے امید ہے نیلم کی پرورش میں تم نے ضرور کچھ اچھا ہی کرنا ہے. میں نے ان دس سالوں میں نیلم کو اپنے لئے سٹرگل کرتے دیکھا ہے. اور مجھے امید ہے ، تم اپنی امی کو ضرور کچھ اچھا ہی دو گی .
جی آنٹی میرے یہ ہی ارادے ہیں، میں اب ماما کو زندگی میں ماضی سے نجات نا بھی دلا سکوں پر آنے والا خوشحال کل ضرور دونگی .
بہت بڑی اور گہری بات کی ہے تم نے ،مسز انور نے ثانیہ کے انداز میں پختگی پر اسکے چہرے کا بغور جائزہ لیا .
ثانیہ نے گردن جھکا لی.
مگر مسز انور ثانیہ کے مزاج کو بھانپ گیئں .
چھوڑیئے مسز انور. یہ تو بچی ہے. نا دانی میں ایسی باتیں کر رہی ہے. نیلم نے مسز انور کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر مسز انور کا دھیان بانٹنے کی کوشش کی.
مسز انور اور نیلم کا کافی پرانا ساتھ تھا. مسز انور نیلم کے باس کی بیگم ہونے کے علاوہ نیلم سے بھی اچھے تعلقات رکھتی تھیں.
چند اور لوگوں سے ملاقات اور رات کے کھانے کے بعد نیلم اور ثانیہ نے اپنے گھر کا رخ کیا .
یہ میس چند سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کا میس تھا . جہاں اکثر پارٹیز ہوا کرتی تھیں. جن میں بڑے بڑے سرکاری افسران اور ایئر فورس کے حضرات شمولیت اختیار کیا کرتے تھے.
اور ملنسار فیملیز ایک دوسرے کو بھی دعوت دیا کرتی تھیں .
---------------------------------
یار میری ماما نے ، بڑی تلخ زندگی گزاری ہے، میں انکی مرضی کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتی. اور کیوں چلوں جبکہ انہوں نے اپنی ساری زندگی میرے لئے وقف کر دی ہے.ثانیہ اپنی دوست مریم سے مخاطب ہوتے ہوئے بولی.
پر میں نے تو کچھ اور سنا ہے ثانیہ ..
مریم یار چھوڑ اس بات کو. کوئی اور بات کرتے ہیں
ثانیہ میں جب بھی تجھ سے اس موضوع پر بات کرتی ہوں تو میری بات کو ٹال دیتی ہو.
کیا یار مریم . میں نے کتنی دفع تجھے بتایا ہے ، میں اپنے ماضی کو یاد کرنا نہیں چاہتی. اور ویسے بھی . ماضی کی تلخ حقیقتیں یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا.
لیکن تو کب تک اپنی حقیقت کو تلخ ماضی کہ کر پردہ ڈالتی رہے گی. ابھی تو تیری زندگی کا آغاز ہے . میں تو تیری دوست ہوں، تجھ سے اس موضوع پر بات اسلئے کرتی ہوں کہ تجھے سمجھا سکون . بتا سکون کہ لوگوں کا سامنا اپنی تلخ حقیقتوں کے ساتھ کیسے کرتے ہیں.
چھوڑ یار . اس زمانے کی پرواہ کی ہی کب ہے میں نے ، میں تو اپنے آپ میں جیتی ہوں، میں نے اپنے آپ سے دل لگایا ہے، نا کہ زمانے سے. ویسے بھی . اس زمانے والوں نے مجھ سے سب کچھ چھینا ہے. آج تک دیا کچھ بھی نہیں ہے . پھر میں اس زمانے کی پرواہ کیسے کروں .
ویسے تو یہ بات بھی صحیح کہتی ہے کہ زمانے کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے. مگر میری بات یاد رکھ میری جان ، کہ زمانہ مڑ مڑ کر حادثات کو، زندگی کی تکلیفوں کو اور حقیقتوں کو ایک کمزور انسان کے لئے دوہراتا رہتا ہے، کمزور انسان اپنا ماضی خود بھول بھی جائے ، پر لوگ اسے تازہ کرتے رہتے ہیں. ان زخموں کی طرح کہ جن سے خون ہمیشہ رستہ رہتا ہے.
ہاں تو بلکل سچ کہ رہی ہے مریم ، تو بھی ان ہی لوگوں میں سے ہے نہ جو میرے زخم کریدتے رہتے ہیں.
نا .....نہیں ثانیہ . اگر میری نیت ایسی ہو تو الله مجھے کبھی معاف نہ کرے . میں نے تو آج تک کبھی تیرے لئے دل میں کوئی برائی نہیں رکھی. بس تیرے اس روکھے پن نے ، مجھے مجبور کر دیا کہ میں تجھ پر تیری سوچ پر کام کروں، تجھے بدلنے کی کوشش کروں. صرف اکیس برس کی عمر میں تجھ میں اتنی کڑواہٹ ہے، اتنی تلخی ہے.
ثانیہ نے اس بات پر ایک ٹھنڈی آہ بھری . چہرے پر شدید اکتاہٹ ہونے کے باوجود اوپری مسکراہٹ سجا لی . اور مریم سے مخاطب ہوتے ہوئے بولی . نہیں یار. مجھے تیری نیت پر کبھی کوئی شک تھا، نہ ہی ہوگا. ایک تو ہی ہے جو مجھے بہت اچھے سے سمجھتی ہے، میرا مان رکھتی ہے، ورنہ ، ورنہ میرے اپنوں نے تو مجھے ٹھکرا دیا ہے. میرے اپنے مجھے قبول کرنے کو تیار نہیں. ایک تو نے ہی میرے دل من کی بات سنی ہے، میرا ساتھ دیا ہے. مجھے اس دنیا میں آج تک کبھی اکیلے نہیں ہونے دیا. میں تیرا قرض کبھی نہیں اتار سکتی .
ثانیہ کی اس بات پر مریم نے خاموش رہنا بہتر سمجھا ، کیوں کے مریم اچھے سے جانتی تھی کے ، ثانیہ ایسی باتیں تب ہی کرتی ہے ، جب شدید ذہنی کرب سے گزر رہی ہوتی ہے، اور ایسے میں ثانیہ کے ساتھ زور زبردستی ثانیہ کو کافی دن تک تنہا رہنے پر مجبور کر سکتی ہے .
Novel-Part-2 By Ruby Akram
Part 1 ke aakhri peragraph..
اپنے کام سے فارغ ہو کر ریسپشنسٹ نے ضروری کاغذات اکھٹے کیے. اور گلہ کھنکھارتے ہوئے شہرم کے قریب سے گزرتے وقت تھوڑے سے راستے کی گزارش کی. شہرم نے ریسپشنسٹ کو جگہ دی کہ وہ با آسانی گزر سکے.
چلیں مریم ؟ وہیں سے ملحقہ کمرے میں آدھا دروازہ کھول کر ریسپشنسٹ نے آواز دی.
شہرم اسکی خود اعتمادی دیکھ رہا تھا. اور یہاں وہاں بیٹھے لڑکے لڑکیوں سے اسکی بے نیازی بھی دیکھ رہا تھا. اور سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ، آخر اس عمر میں اس کو اس جاب کی کیا ضرورت ہے ؟
مریم اور ریسپشنسٹ پیدل چلتے ہوئے اکیڈمی کے گیٹ کی طرف روانہ ہو گیئں.
-------------------------------------------------------------------------------
Now Next Part
پاپا . شہرم کہاں ہے ، نظر نہیں آ رہا ہے مجھے. شہیر نے نصیر الدین صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا.
بیٹا وہ اپنی اکیڈمی گیا ہے. آج اسکا پہلا دن تھا. کلاس مس نہیں کر سکتا تھا.
پر آپ نے اسے بتایا نہیں کہ آج میں نے آنا ہے. میری آنکھیں ترس گئی ہیں اسکو دیکھنے کے لئے.
تمہارا بیٹا بلکل تم پر گیا ہے.جب کوئی کام کا بیڑا اٹھا لے اس کام کو وقت پر ہی کر کے چھوڑتا ہے. آج اسکا اکیڈمی کا پہلا دن تھا. وہ کبھی مس نہیں کر سکتا اپنے خاص دن تعلیم کے حوالے سے. زہرا بیگم نے شہیر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا.
شہیر تم نے کھانا تو صحیح سے کھایا ہے نا ؟ آج تمھاری ماں نے خود تیار کیا ہے تمہارے لئے سارا کھانا. یہ میٹھا بھی لو.
نہیں میں نے پیٹ بھر کر کھا لیا ہے ابھی بہت. میٹھے کی تو گنجائش ہی نہیں بچی. آپ ایسا کریں. سوئٹ دش رکھ دیں. جب شہرم آئے گا. ہم سب مل کر کھایئں گے.
بیٹا پتا نہیں وہ کب تک آئے گا. تم تھکے ہوئے آئے ہو. آرام بھی کرنا ہوگا. اسکو آتے آتے رات نہ ہو جائے . نصیر الدین صاحب مختلف وجہیں بنانے لگے شہیر کا شہرم کے انتظار کو ٹالنے کے لئے.
یہ کیا بات ہوئی پاپا .
بھئی تمہارا ہی بیٹا ہے. تم جانو کہ یہ کیا بات ہوئی . نصیر الدین صاحب نے ڈائننگ چئیر کو پیچھے کی طرف سرکایا ، جس سے سب کو اندازہ ہو گیا کہ اب ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ جانا چاہئے.
کھانے سے فارغ ہو کر ، شہیر لیونگ روم میں آ گیا. جہاں تمام لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گپ شاپ میں مشغول ہو گئے.
مگر شہیر کی نظریں بار بار گھڑی کی طرف اٹھتی رہیں. جس سے نصیر الدین صاحب اور زہرا بیگم اچھے سے اندازہ لگا سکتے تھے کہ شہرم کا انتظار شہیر سے ملنے کی ٹرپ بڑھاتا جا رہا ہے.
رات کے گیارہ ہو گئے ہیں شہیر . تم اب آرام کر لو. زہرا بیگم نے شہیر کی سرخ آنکھوں میں جھلکتی نیند دیکھ کر کہا.
نہیں امی . میں ابھی کیسے سو سکتا ہوں. شہرم سے ملے بغیر .
کل ملاقات ہو جائے گی تمہاری. دیکھ لینا وہ صبح سویرے شور مچاتا ہوا خود تمہارے کمرے میں ہوگا. نصیر الدین صاحب نے شہرم کو دلاسہ دیا .
کل ..کیا مطلب ہے آپ کا پاپا.. یعنی میں سات سال بعد پاکستان آیا ہوں. اپنے بیٹے سے ملنے کے اشتیاق میں ہوں. آپ کو کیا لگتا ہے مجھے آرام سے نیند آ جائے گی اس سے ملے بغیر.
شہیر کی بے تابی دیکھ کر نصیر الدین صاحب اور زہرا بیگم خاموش ہو گئے. اور تینوں لوگوں کی موجودگی میں بھی کمرے میں ایسے سکوت تار ہو گیا جیسے یہاں کوئی ہے ہی نہیں.
در حقیقت تینوں ہی سوچ میں مشغول ہو گئے. تینوں اپنی اپنی سوچ اور چہرے کے تاثرات کو ایک دوسرے سے ایسے چھپا رہے تھے. جیسے اصل وجہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ آج سات سال کے بعد شہیر کی آمد پر بھی اسکا اکلوتا بیٹا اسکو ویلکم تک کہنے نہیں آیا. کمرے میں کچھ دیر اور خاموشی رہی .
اس خاموشی کو شہیر نے خود توڑا .
آپ لوگوں کو تو نیند آ رہی ہوگی. آپ دونوں جا کر سو جایئں.
نہیں شہیر . تمہیں کیا لگتا ہے. ہمیں نیند آ جائے گی. آج کتنے سالوں بعد تم ہماری نظروں کے سامنے ہو.
پر صرف شہرم نہیں ہے .شہیر نے دھیمی آواز میں کہا .
شہیر نے پھر سے شہرم کا نام دوہرایا تو نصیر الدین صاحب نے نظریں جھکا لیں.
پاپا آپ اور امی. میں آپ دونوں کو پریشان کرنے کے لئے پاکستان نہیں آیا ہوں. نا ہی میرا ایسا کوئی ارادہ ہے کے میں پچھلی باتیں یاد کر کے آپ لوگوں سے ناراضگی ظاہر کرتا رہوں. یا ناراض ہو کر پاکستان سے چلا جاؤں. میں اب کہیں نہیں جانے والا.
پچھلے کئی سال میں تنہائی میں جی چکا ہوں. جتنی سزا مجھے ملی ہے اس زندگی میں اپنی کوتاہیوں کی اتنی ہی سزا آپ لوگ بھی اپنی اپنی کوتاہیوں کی بھگت چکے ہیں. میرا اب کوئی ارادہ نہیں ہے آپ لوگوں پر اپنی اور آپ کی کوتاہیوں کا غصّہ اتارنے کا. اور یہ جو پچھلے تین گھنٹوں سے آپ لوگ مجھ سے شہرم کی بے رخی چھپا رہے ہیں.. یہ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہے. میں جانتا ہوں. اس پر ان سالوں میں کیا گزری ہوگی . آپ سب تھے اسکے پاس. نہیں تھا کوئی اسکے پاس..تو اسکی ماں اور اسکا باپ . میں جانتا ہوں. اسکی اذیت کیسی ہوگی. ماں باپ کی طرف سے دی گئی خلش کیسی ہوگی ہے. یہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا.
میں منا لونگا. میں منا لونگا اپنے سارے روٹھوں کو.
نصیر الدین نے تو جیسے سکون کا سانس لیا. مگر شہیر کے چہرے پر بدلاؤ دیکھ کر حیرت محسوس کرنے لگا . شکر ہے بیٹا . تمہیں نہیں معلوم ، تمھارے آنے سے پہلے سے اب تک مجھے جو ایک پریشانی تھی. وہ یہ ہی تھی کہ شہرم کا رویہ تمہارے لئے کیا نئی مشکل پیدا کرے گا ، اور پھر تم زندگی کو کس طرح لو گے. مگر تم نے میرے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا. کتنا سکون ملتا ہے، جب ہمیں اس ہی مشکل سے رہائی مل جاتی ہے، جس کی قید میں ہم برسوں جی رہے ہوتے ہیں.
پر تمہارے لئے شہرم کو منانا اتنا آسان بھی نہیں ہوگا شہیر. یہ کہتے ہوئے زہرا بیگم نے اپنی کنپٹیوں پر ایسے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا جیسے سر درد کی شکایت کر رہی ہوں .
امی آپ مجھے تھکی ہوئی لگ رہی ہے. آپ جایئے .اپنے آپ کو اس مشکل سے آزاد کریں کہ کل میرا کیا روپ ہوگا. اب میں عمر کے اس حصے میں نہیں ہوں کہ سوچ سمجھ کر کوئی قدم نہ اٹھا سکون. امی میں نے آج تک صرف کھویا ہے. ان ہی لوگوں کو جو میرے سب سے قریب اور سب سے زیادہ اپنے تھے. اب میں اپنوں کو خود سے دور نہیں ہونے دونگا. بڑھاپا میری دہلیزپر دستک دے رہا ہے. کب تک میں دروازہ بند رکھ سکتا ہوں. بڑھاپا تو نا چاہ کر بھی آ جاتا ہے. یہ کوئی مہمان نہیں ہے کہ جسے میں دو سال اور روک لوں. میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے جنازے کو کاندھا دینے والا بھی کوئی نا ہو.
چپ کرو شہیر . تم میرا دل چیر رہے ہو. الله نا کرے تمہیں کچھ ہو. ابھی ہم بیٹھے ہیں قبر کی دہلیز پر.
چھوڑیں امی ان باتوں کو. آپ جا کر سو جایئں. پاپا آپ بھی چلے جایئں. میں تھوڑی دیر شہرم کا انتظار کرتا ہوں. آدھے گھنٹے تک وہ نہیں آیا تو میں بھی سو جاؤں گا.
او کے بیٹا. تم نے ہمارے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے. اب کم از کم نیند بے خوفی اور سکون کی آئے
گی. الله حافظ بیٹا. صبح ملاقات ہوگی . -
اپنے کام سے فارغ ہو کر ریسپشنسٹ نے ضروری کاغذات اکھٹے کیے. اور گلہ کھنکھارتے ہوئے شہرم کے قریب سے گزرتے وقت تھوڑے سے راستے کی گزارش کی. شہرم نے ریسپشنسٹ کو جگہ دی کہ وہ با آسانی گزر سکے.
چلیں مریم ؟ وہیں سے ملحقہ کمرے میں آدھا دروازہ کھول کر ریسپشنسٹ نے آواز دی.
شہرم اسکی خود اعتمادی دیکھ رہا تھا. اور یہاں وہاں بیٹھے لڑکے لڑکیوں سے اسکی بے نیازی بھی دیکھ رہا تھا. اور سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ، آخر اس عمر میں اس کو اس جاب کی کیا ضرورت ہے ؟
مریم اور ریسپشنسٹ پیدل چلتے ہوئے اکیڈمی کے گیٹ کی طرف روانہ ہو گیئں.
-------------------------------------------------------------------------------
Now Next Part
پاپا . شہرم کہاں ہے ، نظر نہیں آ رہا ہے مجھے. شہیر نے نصیر الدین صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا.
بیٹا وہ اپنی اکیڈمی گیا ہے. آج اسکا پہلا دن تھا. کلاس مس نہیں کر سکتا تھا.
پر آپ نے اسے بتایا نہیں کہ آج میں نے آنا ہے. میری آنکھیں ترس گئی ہیں اسکو دیکھنے کے لئے.
تمہارا بیٹا بلکل تم پر گیا ہے.جب کوئی کام کا بیڑا اٹھا لے اس کام کو وقت پر ہی کر کے چھوڑتا ہے. آج اسکا اکیڈمی کا پہلا دن تھا. وہ کبھی مس نہیں کر سکتا اپنے خاص دن تعلیم کے حوالے سے. زہرا بیگم نے شہیر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا.
شہیر تم نے کھانا تو صحیح سے کھایا ہے نا ؟ آج تمھاری ماں نے خود تیار کیا ہے تمہارے لئے سارا کھانا. یہ میٹھا بھی لو.
نہیں میں نے پیٹ بھر کر کھا لیا ہے ابھی بہت. میٹھے کی تو گنجائش ہی نہیں بچی. آپ ایسا کریں. سوئٹ دش رکھ دیں. جب شہرم آئے گا. ہم سب مل کر کھایئں گے.
بیٹا پتا نہیں وہ کب تک آئے گا. تم تھکے ہوئے آئے ہو. آرام بھی کرنا ہوگا. اسکو آتے آتے رات نہ ہو جائے . نصیر الدین صاحب مختلف وجہیں بنانے لگے شہیر کا شہرم کے انتظار کو ٹالنے کے لئے.
یہ کیا بات ہوئی پاپا .
بھئی تمہارا ہی بیٹا ہے. تم جانو کہ یہ کیا بات ہوئی . نصیر الدین صاحب نے ڈائننگ چئیر کو پیچھے کی طرف سرکایا ، جس سے سب کو اندازہ ہو گیا کہ اب ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ جانا چاہئے.
کھانے سے فارغ ہو کر ، شہیر لیونگ روم میں آ گیا. جہاں تمام لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گپ شاپ میں مشغول ہو گئے.
مگر شہیر کی نظریں بار بار گھڑی کی طرف اٹھتی رہیں. جس سے نصیر الدین صاحب اور زہرا بیگم اچھے سے اندازہ لگا سکتے تھے کہ شہرم کا انتظار شہیر سے ملنے کی ٹرپ بڑھاتا جا رہا ہے.
رات کے گیارہ ہو گئے ہیں شہیر . تم اب آرام کر لو. زہرا بیگم نے شہیر کی سرخ آنکھوں میں جھلکتی نیند دیکھ کر کہا.
نہیں امی . میں ابھی کیسے سو سکتا ہوں. شہرم سے ملے بغیر .
کل ملاقات ہو جائے گی تمہاری. دیکھ لینا وہ صبح سویرے شور مچاتا ہوا خود تمہارے کمرے میں ہوگا. نصیر الدین صاحب نے شہرم کو دلاسہ دیا .
کل ..کیا مطلب ہے آپ کا پاپا.. یعنی میں سات سال بعد پاکستان آیا ہوں. اپنے بیٹے سے ملنے کے اشتیاق میں ہوں. آپ کو کیا لگتا ہے مجھے آرام سے نیند آ جائے گی اس سے ملے بغیر.
شہیر کی بے تابی دیکھ کر نصیر الدین صاحب اور زہرا بیگم خاموش ہو گئے. اور تینوں لوگوں کی موجودگی میں بھی کمرے میں ایسے سکوت تار ہو گیا جیسے یہاں کوئی ہے ہی نہیں.
در حقیقت تینوں ہی سوچ میں مشغول ہو گئے. تینوں اپنی اپنی سوچ اور چہرے کے تاثرات کو ایک دوسرے سے ایسے چھپا رہے تھے. جیسے اصل وجہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ آج سات سال کے بعد شہیر کی آمد پر بھی اسکا اکلوتا بیٹا اسکو ویلکم تک کہنے نہیں آیا. کمرے میں کچھ دیر اور خاموشی رہی .
اس خاموشی کو شہیر نے خود توڑا .
آپ لوگوں کو تو نیند آ رہی ہوگی. آپ دونوں جا کر سو جایئں.
نہیں شہیر . تمہیں کیا لگتا ہے. ہمیں نیند آ جائے گی. آج کتنے سالوں بعد تم ہماری نظروں کے سامنے ہو.
پر صرف شہرم نہیں ہے .شہیر نے دھیمی آواز میں کہا .
شہیر نے پھر سے شہرم کا نام دوہرایا تو نصیر الدین صاحب نے نظریں جھکا لیں.
پاپا آپ اور امی. میں آپ دونوں کو پریشان کرنے کے لئے پاکستان نہیں آیا ہوں. نا ہی میرا ایسا کوئی ارادہ ہے کے میں پچھلی باتیں یاد کر کے آپ لوگوں سے ناراضگی ظاہر کرتا رہوں. یا ناراض ہو کر پاکستان سے چلا جاؤں. میں اب کہیں نہیں جانے والا.
پچھلے کئی سال میں تنہائی میں جی چکا ہوں. جتنی سزا مجھے ملی ہے اس زندگی میں اپنی کوتاہیوں کی اتنی ہی سزا آپ لوگ بھی اپنی اپنی کوتاہیوں کی بھگت چکے ہیں. میرا اب کوئی ارادہ نہیں ہے آپ لوگوں پر اپنی اور آپ کی کوتاہیوں کا غصّہ اتارنے کا. اور یہ جو پچھلے تین گھنٹوں سے آپ لوگ مجھ سے شہرم کی بے رخی چھپا رہے ہیں.. یہ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہے. میں جانتا ہوں. اس پر ان سالوں میں کیا گزری ہوگی . آپ سب تھے اسکے پاس. نہیں تھا کوئی اسکے پاس..تو اسکی ماں اور اسکا باپ . میں جانتا ہوں. اسکی اذیت کیسی ہوگی. ماں باپ کی طرف سے دی گئی خلش کیسی ہوگی ہے. یہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا.
میں منا لونگا. میں منا لونگا اپنے سارے روٹھوں کو.
نصیر الدین نے تو جیسے سکون کا سانس لیا. مگر شہیر کے چہرے پر بدلاؤ دیکھ کر حیرت محسوس کرنے لگا . شکر ہے بیٹا . تمہیں نہیں معلوم ، تمھارے آنے سے پہلے سے اب تک مجھے جو ایک پریشانی تھی. وہ یہ ہی تھی کہ شہرم کا رویہ تمہارے لئے کیا نئی مشکل پیدا کرے گا ، اور پھر تم زندگی کو کس طرح لو گے. مگر تم نے میرے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا. کتنا سکون ملتا ہے، جب ہمیں اس ہی مشکل سے رہائی مل جاتی ہے، جس کی قید میں ہم برسوں جی رہے ہوتے ہیں.
پر تمہارے لئے شہرم کو منانا اتنا آسان بھی نہیں ہوگا شہیر. یہ کہتے ہوئے زہرا بیگم نے اپنی کنپٹیوں پر ایسے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا جیسے سر درد کی شکایت کر رہی ہوں .
امی آپ مجھے تھکی ہوئی لگ رہی ہے. آپ جایئے .اپنے آپ کو اس مشکل سے آزاد کریں کہ کل میرا کیا روپ ہوگا. اب میں عمر کے اس حصے میں نہیں ہوں کہ سوچ سمجھ کر کوئی قدم نہ اٹھا سکون. امی میں نے آج تک صرف کھویا ہے. ان ہی لوگوں کو جو میرے سب سے قریب اور سب سے زیادہ اپنے تھے. اب میں اپنوں کو خود سے دور نہیں ہونے دونگا. بڑھاپا میری دہلیزپر دستک دے رہا ہے. کب تک میں دروازہ بند رکھ سکتا ہوں. بڑھاپا تو نا چاہ کر بھی آ جاتا ہے. یہ کوئی مہمان نہیں ہے کہ جسے میں دو سال اور روک لوں. میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے جنازے کو کاندھا دینے والا بھی کوئی نا ہو.
چپ کرو شہیر . تم میرا دل چیر رہے ہو. الله نا کرے تمہیں کچھ ہو. ابھی ہم بیٹھے ہیں قبر کی دہلیز پر.
چھوڑیں امی ان باتوں کو. آپ جا کر سو جایئں. پاپا آپ بھی چلے جایئں. میں تھوڑی دیر شہرم کا انتظار کرتا ہوں. آدھے گھنٹے تک وہ نہیں آیا تو میں بھی سو جاؤں گا.
او کے بیٹا. تم نے ہمارے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے. اب کم از کم نیند بے خوفی اور سکون کی آئے
گی. الله حافظ بیٹا. صبح ملاقات ہوگی . -
Novel-Part-1 By Ruby Akram
السلام و علیکم
کیسے ہیں آپ تمام قارئین .
یہ ناول کسی بھی خاندان یا کسی بھی ایک فرد کی ذاتی زندگی سے تعلق نہیں رکھتا ، بلکہ انتہائی سوچ پر مبنی ناول ہے، جس کا کسی بھی انسان سے یا اس کی زندگی سے بلواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں، اور کسی کی زندگی سے اس کا میل کھانا محظ اتفاق ہے. اس ناول کا عنوان ابھی منتخب نہیں کیا گیا ہے، نام کچھ دنوں میں یہاں تحریر کر دیا جائے گا کیوں کے یہ ناول ابھی تحریر کے مراحل سے گزر رہا ہے . بہت شکریہ .
شہیر آج کافی برسوں بعد واپس آ رہا ہے ، آپ کا کیا خیال ہے، وہ کہاں رہنا پسند کرے گا. ہمارے ساتھ یا وہیں اپنے گھر میں، میں نے تو یہاں اسکا کمرہ بھی تیار کروا لیا ہے، اور اس گھر کو بھی صاف کروا دیا ہے. اب یہ شہیر کی مرضی ہے جہاں اسکا دل کرے رہے.
دیکھو زہرہ ، تم اس بات کا خاص خیال رکھنا کہ شہیر کے سامنے پرانی باتیں نا دہرانا . میں چاہتا ہوں، اس بار وہ پاکستان آئے تو ہمارے ساتھ ہی رہے. مجھ سے بھی اب آفس سمبھالا نہیں جاتا ہے، ہمارا پوتا ابھی چھوٹا ہے. ہمارے بیٹے یعنی شہیر کو ہی اس کاروبار کو سمبھالنا ہے. فزراء اب شہیر کی زندگی میں نہیں ہے، موت کسی کی تڑپ ، کسی کا دکھ نہیں دیکھتی ہے. موت نے شہیر کی تڑپ اور دکھ نہیں دیکھا ، فزراء کو بھی شہیر سے جدا کر دیا . ورنہ ہم نے تو یہ اسکی زندگی کا آخری فیصلہ اور آزمائش سمجھ کر اسکو اپنے سے دور کر دیا تھا. کہ وہ ہمیں بھول کر اپنے لئے زندگی میں نئی رونقیں تلاش کرے . مجھے تو یہ فکر بھی ہے، کہ ہمارے پوتے یعنی شہرم کو اتنے سالوں بعد اپنا باپ قبول بھی ہوگا یا نہیں، باپ کی غیر موجودگی میں ہم نے اسے باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی. مگر میرے دل کو چیرتے اسکے سوال یہ ہی ظاہر کرتے تھے کے وہ اپنے باپ کی جدائی کو باپ کی لا پرواہی اور بے وفائی ہی تصور کرتا ہے.
شہیر کی زندگی میں مٹھاس لانے کے لئے ہم نے بھی تو یہ نہیں سوچا کے یہ معصوم بچہ بھی تو جیتا جاگتا اور جذبات رکھنے والا انسان ہے، اس کے جذبات کب اور کہاں ہم بالاے طاق رکھتے رہے ، ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں. اے کاش شہرم قبول کر لے شہیر کو.
کیا کہ رہے ہیں دادا جانو آپ . میں اس انسان کے آنے پر خوش ہو جاؤں جس نے مجھے مڑ کر دوبارہ نہیں دیکھا، دادا جانو ، وہ شخص میرا باپ ہے. مگر صرف نام کا . میرا دل سسکتا تھا جب میرے دوست اپنے باپ کا اپنی ماں کا ذکر کرتے تھے. میں تڑپ جاتا تھا جب نیند میں یہ خیال مجھے جگاتا تھا کے میرا کوئی نہیں. دادا جانو ، اگر آپ نا ہوتے تو میرا کون تھا.
دادا جانو نے اپنے پوتے کو سینے سے لگا لیا. اور ٹھنڈی آہ بھر کر بولے. میرا بھی تو کوئی نہیں میرے لال.
تم نہیں جانتے ، کن حالات میں ہم نے شہیر کو تم سے جدا کیا تھا. اس رات اگر ہم نے یہ فیصلہ نا کیا ہوتا. تو ہم شہیر کو ہمیشہ کے لئے کھو دیتے . میرے بچے ، تم نہیں جانتے ، تمھارے باپ کی کیا حالت تھی. کبھی کبھی انسان اپنے بس میں بھی نہیں رہتا .
دادا جانو ، میں بھی تو اس دنیا میں اپنی مرضی سے نہیں آیا تھا. میں نے اپنے باپ کا کیا بگاڑا تھا، جو بھی حالات تھے. جیسے بھی حالات تھے. میں اپنے باپ کے ساتھ کا بھی حقدار نہیں تھا کیا؟ کیا مجھے اتنا حق بھی نہیں تھا کہ میں کسی کا بیٹا ہونے کا احساس جی سکوں ، کیا میں ایک مکمل انسان نہیں کہلا سکتا تھا اپنی زندگی کے اس دور میں جب میری شخصیت کی تعمیر ہو رہی تھی. میرا آج. محرومیوں کا شکار ہے. کوئی کمی نہیں رکھی میرے لئے آپ نے دادا جانو . کوئی ایک کمی بھی نہیں رکھی. پر کیا میرے جذبات ، میرے احساسات ، میری تڑپ جو والدین کے لئے ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے، اس کا کوئی مداوہ ہے ؟ اس کمی کو کوئی پورا کر سکتا ہے. کیا میرا گزرا کل واپس لوٹ آئے گا ؟ نہیں دادا جانو . پلٹ کر وہ وقت نہیں آ سکتا .
دیکھو شہرم ، تم سے اس معاملے پر میں تفصیل سے بات کرنا چاہتا ہوں. آج تک میں صرف تمھارے سمجھدار ہونے کا انتظار کرتا رہا. تم اپنے باپ سے بد زن ہوتے چلے گئے.
دادا جانو میں اس قصے کو یہیں تمام کرتا ہوں. میں بچہ نہیں ہوں جو بہل جاؤں گا. مجھے اپنے گزرے کل کے ایک ایک پل کا حساب چاہئے.
شہرم کے طور طریقوں میں بلا کی خود اعتمادی آ چکی تھی. اس گھر میں اگر اسکی کوئی کمزوری تھی ، تو وہ اسکے دادا جانو یعنی میاں نصیر الدین ہی تھے. اور میاں نصیرالدین پچھلے تین سالوں سے شہرم پر کاروبار کی ہلکی پھلکی ذمداریاں ڈالنا چاہ رہے تھے. مگر شہرم ابھی ان جھمیلوں سے خود کو مبراء رکھنا چاہتا تھا.
شہرم 18 سال کا اچھے ڈیل ڈول کا مالک لڑکا تھا. دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے دو گھنٹے اسکے جم میں گزرتے ، یونیورسٹی سے فراغت پا کر شہرم اکثر سیدھے سنوکر کلب میں چلا جاتا تھا. دادی دادا کا بے جا لاڈ اور شہرم کا اکیلا پن بھی شہرم کے کردار پر کوئی منفی پہلو مرتب نہ کر پائے تھے. بلکہ باپ کی کمی نے شہرم کو خاصہ خود مختار بنا دیا تھا.
دادا جانو . میں جا رہا ہوں.
کہاں جا رہے ہو شہرم ، تمہارے باپ کو لینے کے لئے تمہیں ہی ایئر پورٹ جانا ہے.
نہیں دادا ، مجھے آپ اس زحمت سے محفوظ ہی رکھیں، بلکہ جب تک آپ کے بیٹے یہاں ہیں. میں آپ کو کم کم ہی نظر آؤنگا. ویسے بھی میرے پیپرز سٹارٹ ہونے والے ہیں. بلکہ مجھے آپ کو یہ بتانا تھا کے میں نے ایوننگ میں اکیڈمی جوائن کر لی ہے. جم سے میں سیدھا اکیڈمی جایا کرونگا.
بیٹا واپسی کب ہوگی ؟
پتا نہیں دادا جانو. جب دل کرے گا. واپس آ جایا کرونگا .
تم ہمارے ساتھ زیادتی کر رہے ہو شہرم. تمہارا ایسا کرنا ہماری پرورش کا حصہ نہیں.
دادا جانو ، میں آپ لوگوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کر رہا. بلکہ آپ لوگ میرے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں، اس گھر میں ایک اجنبی کو جگہ دے کر.
اجنبی. شہیر تمہارا باپ ہے ، اجنبی نہیں ہے.
میرے لئے وہ اجنبی ہے دادا . جس نے مجھے اپنے پیار، اپنے وقت ، اپنے جذبوں سے محروم رکھا. میرے لئے وہ اجنبی ہی ہے.
شٹ آپ بیٹا .
نو دادا اٹز ناٹ مائی فالٹ . میں جا رہا ہوں، آج میرا اکیڈمی میں پہلا دن ہے مجھے دیر ہو گئی تو میرا قیمتی وقت جو تعلیم کے لئے ہے وہ برباد ہوگا .
او کے بیٹا . جاؤ. تمہارے دادا نے آج تک تم پر کوئی زبردستی نہیں کی ہے. مگر یہ بھی یاد رکھنا بیٹا . کہ میں نے آج تک کبھی تم سے کچھ مانگا بھی نہیں ہے .
دادا ..آپ مجھ سے آپ کے بیٹے کے لئے وقت کے علاوہ کچھ بھی مانگ کر دیکھیں. میں جان حاضر کرنے کو تیار ہوں.
رکو ، کہاں جا رہے ہو شہرم.
نصیر صاحب آپ اپنے پوتے کو روکتے کیوں نہیں. آج شہیر آ رہا ہے. اور خدا کی کرم نوازی دیکھئے. اس بار شہیر نے خود مجھ سے اپنے پسند کے کھانے کی فرمائش کی ہے. آج میں اپنے ان بوڑھے ہاتھوں سے خود کھانا پکاؤں گی اپنے بیٹے کے لئے.
جانے دو اس کو زہرا بیگم . مجھ سے پوچھ کر جا رہا ہے.
شہرم نے دادا جانو کی اس بات پر شکریہ کے انداز میں دادا کی طرف دیکھا .
یار . دادا جانو نے کیا سوچ کر دادی سے یہ کہا کے میں ان سے پوچھ کر جا رہا ہوں، جبکہ دادا جانو نے تو مجھے اجازت تک نہیں دی ہے جانے کی. کہیں میری طرف سے دادا جانو پر یہ زیادتی ہی تو نہیں. پر میں کیوں اس انسان کے لئے اپنے دل میں جگہ بناؤں کہ جس کو میں جانتا تک نہیں. پر دادا جانو کی مصلحتوں سے میں واقف ہوں. ضرور دادا کی اس بات میں بھی کوئی بات ہوگی. پر میرے دادا نے میرے لئے کبھی کوئی ایسی مصلحت نہیں رکھی کہ جس سے میں نہ خوش ہوا ہوں. شہرم نے یہ سب سوچتے ہوئے کار سٹارٹ کی اور اپنی اکیڈمی کا رخ کیا .
اکیڈمی کا پہلا دن ، بہت دلچسپ رہا . ویسے بھی شہرم اپنے دھیان کو بانٹنا چاہتا تھا. اس غرض سے اس نے اپنی کلاسز ختم ہونے کے بعد بھی پہلا دن اکیڈمی میں ہی گزارا . کچھ نوٹس اکھٹے کیے. کچھ پروفیسرز حضرات سے ملاقات کی . اور اگلی کلاسز کا شیڈول معلوم کیا.
سر مجھے اپنی کلاسز کا شیڈول معلوم کرنا ہے.
آپ وہاں ریسپشن پر جائیے وہاں آپ کو تمام معلومات مل جایئں گی.
او کے سر .
ایکس کیوز می . کائندلی آپ میری تھوڑی ہیلپ کرینگی. مجھے اپنے شیڈول کے بارے میں آپ سے کچھ ڈسکس کرنا ہے.
جی پوچھئے .
ریسپشن پر کچھ ضروری معلومات کرنے کے بعد شہرم وہیں قریب پڑے بنچ پر بیٹھ گیا.
اپنے کام سے فارغ ہو کر ریسپشنسٹ نے ضروری کاغذات اکھٹے کیے. اور گلہ کھنکھارتے ہوئے شہرم کے قریب سے گزرتے ہوئے تھوڑے سے راستے کی گزارش کی. شہرم نے ریسپشنسٹ کو جگہ دی کہ وہ با آسانی گزر سکے.
چلیں مریم ؟ وہیں سے ملحقہ کمرے میں آدھا دروازہ کھول کر ریسپشنسٹ نے آواز دی.
شہرم اسکی خود اعتمادی دیکھ رہا تھا. اور یہاں وہاں بیٹھے لڑکے لڑکیوں سے اسکی بے نیازی بھی دیکھ رہا تھا.
مریم اور ریسپشنسٹ پیدل چلتے ہوئے اکیڈمی کے گیٹ کی طرف روانہ ہو گیئں.
Monday, 21 October 2024
Monday, 30 May 2022
Subscribe to:
Posts (Atom)


~2.jpg)









.jpg)